9

آن لائن سیاست … تحریر، اے وسیم خٹک

گزشتہ کچھ سالوں میں سوشل میڈیا ہماری زندگی میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ اس کے سوا ہمیں کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہا ، ہر شخص سوشل میڈیا کی وجہ سے تجزیہ نگار اور سیاست دان بن گیا ہے کسی بھی موضوع پر اپ بات کرکے دیکھیں لوگوں کے پاس معلومات کا خزینہ ہوگا، کچھ دہائی پہلے کمیونی کیشن میں پولیٹیکل کمیونی کیشن بھی ایک مضمون کے طور پر متعارف ہوا جس سے یہ بات سامنے آگئی کہ اب سیاست بھی آن لائن ہوگئی ہے جس کی واضح مثال ہم سب کے سامنے ہے جب 2013کے الیکشن ہونیو الے تھے تو سوشل میڈیا پر سب پارٹیوں نے اپنے سوشل میڈیا ونگ بنا لیا تھا جن کا کام اپنی پارٹی کو سپورٹ کرنا مقصود تھا اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے، سب سے زیادہ متحرک تحریک انصاف پاکستان کے کارکنان رہے کیونکہ یہ پارٹی زیاہ تر نوجوانان پر مشتمل ہے اگر ہم کہیں کہ سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائٹس کاا استعمال اب صرف عوام تک محدود نہیں رہا ، بلکہ اب سیاستدان بھی اپنا سیاسی پیغام عام کرنے کے لیے اسے زیادہ سے زیادہ استعمال کررہے ہیں جدید میڈیا صرف ایک ملک کی قیادت کے خلاف آواز اٹھانے میں ہی مددگار ثابت نہیں ہو رہا۔
آج سیاست دان انہیں اپنا موقف اخبار اور ٹی وی کے رپورٹر کے بجائے خود عوام تک پہنچانے کے لیئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال ہے صدر باراک اوباما کی جانب سے امریکی معیشت کی صورت حال پر ٹویٹر کے زریعے عوام کے ساتھ ٹاؤن ہال طرز کی ایک میٹنگ ہے اس سے پہلے صدر اواباما فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے بھی امریکی عوام سے رابطہ کر چکے ہیں۔ لیکن دیگر میڈیا کی نسبت ٹویٹر پر پیغام میں صرف ایک سو چالیس حروف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔۔اور اتنے کم الفاظ میں اپنی بات کہنا آسان نہیں۔اسی لیے صدر اوباما نے ٹویٹر کے ساتھ گفتگو کا سہارا بھی لیا۔اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ خبروں میں دلچسپی لینے والوں کو نہ صرف جدید بلکہ روایتی میڈیا پر بھی توجہ دینی چاہیئے۔ کین کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ روایتی میڈیا اب بھی اہم ہے۔ انٹرنیٹ پر ملنے والی زیادہ تر معلومات کی بنیاد روایتی میڈیا ہی ہوتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ روایتی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی اور کاروبار بھی معلومات کے تبادلے اور عوام تک پہنچنے کے لیے آج بڑی تعداد میں فیس بک اور ٹویٹر جیسے جدید میڈیا کا ہی سہارا لے رہے ہیں۔
آن لائن سیاست دراصل ”انٹرنیٹ فعالیت” (Internet activism)کی ذیلی قسم ہے۔ انٹر نیٹ فعالیت نے باقاعدہ طور پر 1999ء میں جنم لیا۔ تب امریکی شہر سیتل میں وی ٹی او( ورلڈ ٹریڈ ارگنائزیشن) کے خلاف زبردست مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ میں متحرک سماجی رہنماوں نے ایک خصوصی ویب سائٹ” انڈی میڈیا” ( Indymedia) تخلیق کی۔ مدعا یہ تھا کہ دنیا بھر میں عوام و خواص تک مظاہروں سے متعلق تازہ خبریں پہنچائی جا سکیں۔آن لائن سیاست نے ابتداً 2004ئکے امریکی صدارتی انتخابات میں جنم لیا۔ تب بعض امیدواروں نے ووٹروں تک پہنچنے کی خاطر انٹرنیٹ کا بھی سہارا لیا۔ لیکن ان لائن سیاست نے باقاعدہ طور پر چار برس بعد جڑیں پکڑ یں۔تبدیلی کے نمائندے’ بارک اوباما نے صدارتی الیکشن 2008ء میں اپنے خیالات و نظریات عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے بھرپور مدد لی۔ ان کی ا?ئی ٹی ٹیم نے انتخابی مہم کے حوالے سے خصوصی پیج تخلیق کئے۔ یوں دنیا والے پہلی بار اگاہ ہوئے کہ انٹرنیٹ بھی سیاست کرنے اور انتخابی مہمات چلانے کا اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔سیاست بنیادی طور پر ایک معاشرتی سرگرمی ہے۔ اسی لیے جوں جوں دنیائے انٹرنیٹ میں انسانوں کی امدورفت بڑھی’ ان لائن سیاست بھی پھلتی پھولتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ اسی کے بطن سے ”عرب بہار” جیسے تاریخ ساز عمل نے جنم لیا۔ تب تیونس سے اردن اور شام تک عوام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے متحد ہوئے اور امرانہ حکومتوں کے خلاف زبردست احتجاج کرنے لگے۔ حتیٰ کہ اس عوامی طاقت نے تیونس’ مصر اور لیبیا میں امروں کو پسپا کر دیا۔امریکی صدارتی الیکشن 2012میںان لائن سیاست کی نئی جہت سامنے ائی۔ تب امریکی سیاسی پارٹیوں نے نہ صرف انتخابی مہم چلانے بلکہ پولنگ بوتھ ڈھونڈنے اور ووٹ ڈالنے میں اسانی پیدا کرنے کی خاطر نت نئی کمپیوٹر ایپلی کیشنیں بنوائیں۔
درحقیقت امریکی امیدواروں نے جتنی متحرک اور سرگرم ان لائن انتخابی مہم چلائی’ روایتی مہم ویسی پْر جوش نہیں رہی۔امریکا میں ان لائن سیاست کی بڑھتی مقبولیت دیکھ کے لگتا ہے’ وہاں کمپیوٹر ماہرین مستقبل میں ایسا میکنزم تخلیق کر لیں گے کہ ہر شہری گھر بیٹھے ہی بذریعہ نیٹ اپنا ووٹ ڈال سکے۔ اگر ایسا ہوا’ تو یہ عمل خصوصاً ترقی پذیر ممالک کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔ کیونکہ پھر ہر شہری کسی دھونس کے بغیر اپنا حق رائے دہی ازادی سے استعمال کر سکے گا۔ نیز دھاندلی و فراڈ کا عنصر بہت کم ہو جائے گا۔یہ ا?ن لائن سیاست کا مثبت روپ ہے۔پاکستان میں اس کی امد کو ہم پی ٹی آئی کا کرشمہ ہی کہہ سکتے ہیں جنہوں نے اس سیاست کو متحرک کیا اور یہی پارٹی سیاست میں متحرک ہوئی۔ جماعت نے نوجوان ائی ٹی ماہرین بھرتی کیے تاکہ وہ دنیائے نیٹ میں جماعت اور اس کے قائدین کو مقبول بنا سکیں۔ماہرین نے اس ضمن میں دیدہ زیب اور پْرکشش ویب سائٹیں تخلیق کیں۔ ان پہ نہ صرف موئڑ مواد دیا بلکہ مختلف پلیٹ فارم بھی بنائے جہاں پاکستانی بحث ومباحثہ کر سکیں اور بے خوف و خطر اپنے جذبات کا اظہار کریں۔یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور اج پاکستانی ان لائن سیاست کی دنیا میں پی ٹی ائی ہی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
اعداد و شمار کی رو سے پاکستان میں تین کروڑ سے زائد شہری نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ایک کروڑ سے زائد فیس بک پر اکاونٹ رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر پاکستانیوں میں مقبول دوسری سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے۔ اس پر بھی لاکھوں پاکستانی وزٹ کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سائٹس سے وابستہ پاکستانیوں کی ”90 فیصد” تعداد نوجوان ہے یعنی وہ تیرہ تا پینتیس سال عمر رکھتی ہے۔تازہ رپورٹوں کے مطابق فیس بک کی دنیا میں عمران خان مقبول ترین سیاست داں ہیں۔ ان کے 28 لاکھ 91ہزار فین ہیں۔ ان میں سے 21 لاکھ 76ہزار پاکستانی ہیں۔ اسی طرح ان کی جماعت’ پی ٹی ائی فیس بک میں سب سے مشہور سیاسی جماعت ہے۔ وہ 21 لاکھ 17 ہزار پرستار رکھتی ہے۔ ان میں سے 16 لاکھ 86 ہزار پرستار پاکستان میں مقیم ہیں۔دوسرے نمبر پر شیخ السلام’ ڈاکٹر محمد طاہر القادری فائز ہیں۔ ا?پ دنیا بھر میں فیس بک کے 26 لاکھ 79ہزار پرستار رکھتے ہیں۔ ان میں سے 8 لاکھ 73ہزار پاکستانی ہیں۔ ان کے جلسوں میں لاکھوں پرستاروں کی وجہ سے بھی خاصی رونق ہوتی ہے۔ڈاکٹر صاحب کے پاکستان عوامی تحریک کے فیس بک پر 2 لاکھ 43 ہزار فین ہیں۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف تیسرے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ وہ 20 لاکھ 76 ہزار فین رکھتے ہیں۔ تاہم ان کی بدقسمتی کہ وہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے برعکس اپنے فیس بک پرستاروں کو متحرک نہیں کر سکے۔ اس ناکامی کی کئی وجوہ ہیں۔ مثلاً سابق صدر اپنی سیاسی جماعت کو فعال نہیں کر سکے، ماضی کے بعض غلط فیصلوں نے انہیں نامقبول بنا دیا وغیرہ وغیرہ۔دنیائے فیس بک میں دوسری مقبول ترین سیاسی پارٹی جماعت اسلامی ہے۔ وہ 9 لاکھ 48 ہزار پرستار رکھتی ہے۔ دنیائے ویب میں جماعت اسلامی سے وابستہ ا?ئی ٹی ماہرین بھی بڑے سرگرم ہیں۔
وہ اپنی پارٹی کے نظریات و منشور بخوبی پیش کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے قائد جناب سراج الحق بھی فیس بک پر کثیر پرستار رکھتے ہیں۔ ان کی تعداد 3 لاکھ 17 ہزار سے تجاوز کرچکی۔شخصیات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فیس بک میں چوتھے مقبول سیاسی رہنما وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ہیں۔ اپ کے 6 لاکھ 14 ہزار پرستار ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) کا پیج 5 لاکھ 29 ہزار لائکس حاصل کرچکا۔فیس بک پر مسلم لیگ (ن) کے دو اور رہنما بھی ایک لاکھ سے زائد پرستار رکھتے ہیں۔ ان میں حمزہ شہباز شریف (5 لاکھ 79 ہزار) اور مریم نواز شریف (1 لاکھ 91 ہزار) شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ بڑے میاں صاحب یعنی وزیراعظم نواز شریف کے صرف 63 ہزار فین ہیں۔ گویا وزیراعظم پاکستان دنیائے نیٹ میں زیادہ سرگرم نہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی بھی فیس بک پر زیادہ متحرک نہیں۔ اس کا پیج صرف 1 لاکھ 7 ہزار لائکس ہی رکھتا ہے جبکہ اس کے قائد، ا?صف علی زرداری کے ساڑھے اڑتیس ہزار پرستار ہیں۔ بلاول بھٹو 20 ہزار فین رکھتے ہیں۔ٹوئٹر کی دنیا میں بھی عمران خان اور ان کی پارٹی کا راج ہے۔ 16 لاکھ 25 ہزار سے زائد مرد و زن ٹوئٹر پر خان صاحب کے فاو?لر یا پرستار ہیں۔ جبکہ پی ٹی ائی کا صفحہ 7 لاکھ 22 ہزار پرستار رکھتا ہے۔پاکستانی سیاست دانوں میں مریم نواز شریف دنیائے ٹوئٹر میں دوسری مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ وہ 7 لاکھ 8 ہزار پرستار رکھتی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما، میاں شہباز شریف بھی دنیائے ٹوئٹر میں بڑے سرگرم ہیں۔ اپ 6 لاکھ 7 ہزار سے زائد پرستار رکھتے ہیں۔پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید ٹوئٹر پر تیسرے مشہور ترین سیاست داں ہیںجس کے 6 لاکھ 36 ہزار فالوز ہیں۔ اس کے بعد پی ٹی ائی کے رہنما، اسد عمر 5 لاکھ 85 ہزار پرستار رکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں