11

پے پال اور پاکستان میں انٹرنیٹ پر کاروبار کا رجحان

جب بھی انٹرنیٹ پر کاروبار کا ذکر آتا ہے تو بہت سے لوگ اسے جعل سازی اور فراڈ کی دنیا کہہ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی آن لائن انڈسٹری میں صرف چند لوگوں کا راج ہے۔ آج کے دور میں آن لائن بزنس وقت کی ضرورت ہے اور ملک کی معیشت کےلیے بہت اہم بھی ہے۔ لیکن حکومتی سطح پر اس حوالے سے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

حال ہی میں وزیر خزانہ اسد عمر کا بیان پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے گلوبل پیمنٹ سروس پے پال کو پاکستان میں لانے کی بات کی۔

یقیناً یہ نہایت خوش آئند اقدام ہوگا۔ پے پال کی وجہ سے پاکستانیوں کو انٹرنیٹ پر کاروبار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ آن لائن لین دین میں بھی آسانی ہوگی۔ لیکن اگر پے پال پاکستان میں نہیں بھی آتا، تب بھی پاکستان کی آن لائن انڈسٹری کو حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔ اگر اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں یا محض آگہی مہم بھی چلائی جائے تو ملک کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرسکیں گے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں انٹرنیٹ کو برہنہ فلمیں دیکھنے کا ذریعہ اور سوشل میڈیا کو ڈیٹنگ سائٹ سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے۔ جو افراد آن لائن بزنس سے منسلک ہیں، ان کے پاس دوسروں کو سکھانے کےلیے وقت نہیں۔ اگر کسی کے پاس وقت ہے بھی تو وہ بنیادی باتیں بتا کر لوگوں سے فیس بٹورتا ہے۔ اس کے علاوہ چند افراد ایسے بھی ہیں جو دوسروں کو پیسے کمانے کے گر سکھانے کےلیے اپنی خدمات مفت فراہم کرنے کےلیے ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں خود تو کچھ نہیں آتا مگر اپنے بلاگز اور ویڈیوز کے ویوز بڑھانے کےلیے عوام کو کروڑپتی بننے کے سبز باغ دکھاتے رہتے ہیں۔

آن لائن بزنس کا کوئی بھی موقع ملتا ہے تو ہم لوگ اس کا شارٹ کٹ ڈھونڈ کر یکبارگی چھلانگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور نتیجتاً منہ کے بل گرجاتے ہیں۔

مثلاً ہمارے ہاں اگر کسی شخص کو شدید محنت کے بعد ایڈسینس اکاؤنٹ مل بھی جائے تو وہ خود ہی اپنے اشتہارات پر کلک کرکے اسے بلاک کرتا ہے، یا ایک ہی سائٹ سے دس ایڈسینس اکاؤنٹ حاصل کرکے ان اکاؤنٹس کو ہزار یا پندرہ سو میں فروخت کرتا ہے۔ ایسے میں وہ افراد جو جائز طریقے سے کام کرنا چاہتے ہیں، ان کےلیے بھی مسائل بن جاتے ہیں۔ پھر یہ ’’کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘‘ والا معاملہ بن جاتا ہے۔

مجموعی طور پر ہم لوگ شارٹ کٹ اور جعل سازی کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بغیر کوئی روپیہ خرچ کیے آمدنی ملے، بغیر کسی محنت کے ڈالروں کی ریل پیل ہوجائے۔ اسی وجہ سے کبھی ہم رینکنگ کےلیے گوگل سرچ کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہیں۔ کبھی گوگل ایڈسینس سے ناجائز طریقوں کے کمانے کے تجربے کرتے ہیں۔ فیس بک پر اشتہارات چلا کر پیسے دینے کے وقت اپنا کریڈٹ کارڈ ریموو کرتے ہیں۔ یوٹیوب کی ویڈیوز کاپی کرکے یوٹیوب ہی پر ڈال دیتے ہیں۔ نیز چاہے کیسا ہی جائز اور آسان کام کیوں نہ ہو ہم اس میں سے کوئی شارٹ کٹ تلاش کرکے اسے ناجائز اور مشکل بنا دیتے ہیں۔

اسی وجہ سے گوگل، فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ نے اپنی پالیسیاں سخت کر رکھی ہیں؛ اور پے پال بھی اسی وجہ سے پاکستان میں آنے سے گھبراہٹ کا شکار ہے۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں آن لائن کاروبار کے حوالے سے خاصی مغالطے پائے جاتے ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک صاحب نے میسج کیا کہ مجھے چار ایڈسینس اکاؤنٹس چاہئیں، آپ کتنے پیسے لیں گے؟ میں نے کہا کہ ایک ایڈسینس کافی ہوتا ہے، آپ چار کا کیا کریں گے؟ فرمانے لگے کہ میرے ایک دوست کے ابو کو کینسر ہے، ایڈسینس سے پیسے کما کر اس کی مدد کروں گا۔

میں نے بتایا کہ ایڈسینس کےلیے آپ کے پاس ویب سائٹ ہونا لازمی ہے اور ویب سائٹ پر زیادہ لوگ آکر اشتہارات پر کلک کریں گے تب آپ کو پیسے ملیں گے۔ آپ کے پاس تو ویب سائٹ بھی نہیں۔ فرمانے لگے آپ تو بس اکاؤنٹ بنا کر دے دیجیے، آگے میرا کام۔

یقیناً ان صاحب نے کسی سے سن لیا ہوگا کہ ایڈسینس اکاؤنٹ ملتے ہی پیسوں کی بارش ہوجائے گی۔ اسی وجہ سے یہ لوگ فراڈیوں کے ہاتھوں خود کو لٹا کر آن لائن بزنس کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اسی طرح کے مغالطے اور جھوٹی کہانیاں پاکستان میں آن لائن بزنس کو اصل مقام پر لانے میں مانع ہیں۔ انٹرنیٹ پر کاروبار کےلیے انویسٹمنٹ، محنت، بزنس پلان اور نئے رجحانات سے واقفیت لازمی ہے۔

اگر ہمارے نوجوان سنجیدہ ہوکر، مکمل تحقیق اور مضبوط پلان کے ساتھ مارکیٹ میں اتریں، ایمانداری اور مستقل مزاجی سے اپنا کام کریں تو جائز طریقے سے لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔

اگر پے پال پاکستان میں آ بھی جائے تو ہم اس کا حشر وہی کریں گے جو پہلے گوگل، فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔ ایک ہی بندہ دس دس اکاؤنٹ بنا کر سو طریقوں سے کمپنیوں کو دھوکا دیتا رہے گا۔ اس لیے بہترین حکمت عملی یہی ہوگی کہ حکومت پے پال سے معاہدہ کرکے اکاؤنٹ کا بایومیٹرک ویری فکیشن سسٹم متعارف کرا دے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پے پال اپنا ویری فکیشن سسٹم مزید سخت کردے تو کسی حد تک فراڈ سے بچا جا سکتا ہے اور پاکستان کی معیشت کو فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے ورنہ بقول شاعر

بر مزارِ ما غریباں نے چراغ نے گلے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں