8

نپولین بھی ’’ناممکن‘‘ نہیں جانتا تھا!

پاکستان میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عدلیہ، پاک فوج اور سیاست، تینوں ایک پلیٹ فارم پر ہیں جس میں ایک عزم چھپا ہوا ہے؛ اور اس عزم کا نام ’’استحکام پاکستان‘‘ ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن مشکلات جوں کی توں ہیں۔ ان کے وزیر برائے معیشت نے بھی پچھلے دنوں ہاتھ کھڑے کردیئے تھے، لیکن ایک بات طے ہے کہ نپولین کی طرح عمران خان کے کاغذوں میں ’’ناممکن‘‘ نام کا کوئی عنصر نہیں۔ اگر ہم ان کی زندگی کا سرسری جائزہ لیں تو انہوں نے اپنا جو بھی گول بنایا، وہ حاصل کیا ہے۔

کینسر اسپتال کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب انہوں نے ایسے اسپتال کی تعمیر کا عزم ظاہر کیا تھا تو ان کے ساتھ صرف تیس لوگ تھے۔ جب ان لوگوں کے سامنے کینسر اسپتال پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات رکھی گئیں تو ان تیس میں سے انتیس نے کہا تھا کہ یہ کام ناممکن ہے! اتنے پیسے اکٹھے نہیں کیے جا سکتے۔ لیکن عمران خان نے یہ کر دکھایا اور آج شوکت خانم اسپتال نہ صرف لاہور بلکہ خیبر پختونخواہ میں بھی کام کر رہا ہے جبکہ کراچی میں بھی اس کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ پاکستان میں کینسر کے علاج اور کینسر پر تحقیق کےلیے شوکت خانم اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہے۔

ملک کے مختلف طبقات میں عمران خان سے متعلق بہت سے شبہات پائے جاتے ہیں، کیونکہ عمران خان کی طرف سے کچھ ایسے اعمال سرزد ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ان طبقات میں ایسے شبہات کا پایا جانا فطری عمل ہے۔ لیکن اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہمارا ملک پاکستان ’’قحط العلم الرجال‘‘ میں جکڑا ہوا ہے۔ بڑے بڑے دانشور اور فقیہ لوگ کچھ ایسی باتوں کو یا تو سمجھنے سے قاصر ہیں یا وہ بتانا ہی نہیں چاہتے کہ عمران خان ہی وہ واحد شخص ہے جس نے پاکستان کےلیے کچھ کرنے کا عزم کیا ہے جس کےلیے اسے کئی امتحانوں کا سامنا ہے۔
اسے جس شدید تنقید اور کڑی نکتہ چینی کا سامنا ہے، وہ بھی بڑی اعصاب شکن ہے۔ سوشل میڈیا اور نجی اداروں میں بلاوجہ تنقید و تذلیل کی وجہ سے آخرکار حکومت پاکستان نے اس بات کا فیصلہ کرلیا ہے کہ سائبر ایکٹ کو اور زیادہ مؤثر بناتے ہوئے ایسے عناصر کو گرفت میں لینا چاہیے جو بے بنیاد الزامات اور من گھڑت باتیں تراش کر پاکستانی حکومت کا امیج دنیا میں غلط ظاہر کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک بہتر اقدام ہے اور اس پر جہاں تک ممکن ہو، جلد از جلد عمل درآمد ہونا چاہیے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان صرف عمران خان کی حکومت میں ہی اس حد تک معاشی بدحالی اور عدم استحکام کا شکار کیوں ہوا؟ ان سے پہلے والے حکمرانوں نے قرض بھی لیے، ملک میں ڈیویلپمنٹ پر خرچ بھی کیے، پیٹرول اور دیگر اشیاء بھی مہنگی نہیں ہونے دیں، جی ڈی پی کی شرح بھی قابو میں رکھی تو عمران خان کی حکومت میں ہی کیوں ملک معاشی طور پر اس قدر عدم استحکام کا شکار ہے؟

اس کے پیچھے چند ایسی وجوہ ہیں جو بیان کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔ ان عناصر کو بے نقاب کرنا بے شک دانشوروں اور صحافیوں کا کام ہے لیکن افسوس کہ وہ بھی اپنے فرضِ منصبی سے روگردانی کرتے ہوئے جس سمت چل پڑے ہیں، وہ ملک و ملت کی تباہی کا راستہ ہے۔ اگر کوئی عام انسان معیشت کے متعلق تنقید کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن جب دانشور طبقہ اپنے ملک سے وفاداری کے بجائے کسی خاص پارٹی یا فرد سے وفاداری کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرے تو یہ زیادہ تباہی کا سبب بنتا ہے۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ سابقہ (ن لیگ کی) حکومت نے پیتل پر سونے کا پانی چڑھا رکھا تھا۔

یا میں اس کی مثال یوں دیا کرتا ہوں کہ ایک گھر کا کفیل روز گھر میں بکرے کے گوشت کی دعوتیں اڑائے جبکہ اس کی آمدن دال کے برابر ہو۔ باہر سے سود پر قرض لے کر وقتی طورپر لش پش رکھے۔ اب اگر وہ شخص اس گھر میں موجود تھوڑی بہت رقم بھی لے کر، گھر چھوڑ کر چلا جائے تو بعد میں کفالت کرنے والے کو اسی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے آج عمران خان کی حکومت کو ہے۔

معاشی دہشت گردوں نے پاکستان کی ترقی کے نام پر لیا ہوا قرض، پاکستان کی بربادی بنادیا۔ اپنا پیسہ بنانے کی غرض سے فضول قسم کے منصوبے شروع کیے گئے جن کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ عوام کی خدمت کے نام پر اسی عوام کے پیسے کو اس بے دردی سے لوٹا گیا کہ الامان الحفیظ! اور اس پر ستم ظریفی کہ ڈھٹائی سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم پر ایک پائی کی کرپشن ثابت کرکے دکھاؤ۔ کرپشن ثابت کیسے ہوسکتی ہے؟ یا تو وہ ریکارڈز ہی جلادیئے گئے یا ان کے وفادار بیوروکریٹس نے چھپادیئے۔ یہ وہی بیوروکریسی ہے جو اس کرپشن کے دریا میں ان کے ساتھ غوطے لگاتی رہی ہے۔

حرص و لالچ ان کی سب سے بڑی کمزوری اور بے اعتدالی و استحصال کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بدمعاشیہ نے عوام کو غلام رکھنے کےلیے ملک کے ستونوں یعنی بیوروکریسی میں بھی اس بات کو ملحوظ رکھا کہ صحیح ’’ایمانداری سے‘‘ ان کا حقہ کون دہکائے گا اور ان کی پنڈلیاں کون دباتا رہے گا۔ اس وقت ملک میں جو بیوروکریسی کام کررہی ہے، وہ اسی بدمعاشیہ کی وفادار ہے اور عمران خان کےلیے داخلی طور پر یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب جب کسی سیاسی منتخب نمائندے کے خلاف بیوروکریسی کھڑی ہوئی، تب تب اس کی حکومت کھڑی نہ رہ پائی۔ جن لوگوں کی زبانوں کو لقمہ حرام کا ذائقہ چکھنے کی لت لگ گئی، انہیں حلال کا ذائقہ کبھی سیراب نہیں کرسکتا۔ عمران خان کے ہاتھ میں اس وقت لاٹھی ہے، کسی نے صحیح کہا: ’’جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس۔‘‘ عمران خان اگر واقعی داخلی چیلنجوں سے نمٹنا چاہتے ہیں تو وہ بیوروکریسی میں موجود بڑے بڑے مگرمچھوں کو نکال باہر پھینکیں اور کرپشن زدہ عناصر کو قرار واقعی سزا دے کر دوسرے بیوروکریٹس اور عوامی نمائندوں کےلیے عبرت کا نشان بنائیں۔

لیکن اگر عمران خان کچھ بھی نہیں کر پائیں تو وہ کم از کم اتنا ضرور کرلیں کہ بڑے پیمانے پر تقرریاں اور تبادلے کردیں۔ ملک سے محبت کرنے والے مخلص بیوروکریٹس کو موقع دیں تاکہ ملک صحیح معنوں میں ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں