14

بورڈ میں عہدوں کی تڑپ نے سخت ناقدین کو یکجا کر دیا

لاہور: پی سی بی عہدوں کی تڑپ نے سخت ناقدین کویکجا کردیا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر، چیف سلیکٹر اور کوچ محسن حسن خان مشکوک ماضی کے حامل کھلاڑیوں کو پی سی بی میں عہدے دینے کے سخت مخالف رہے ہیں۔ البتہ جب گزشتہ روز ان کی سربراہی میں کرکٹ کمیٹی کا اعلان کیا گیا تو وسیم اکرم کا نام بطور رکن شامل تھا۔

پریس کانفرنس میں اس حوالے سے سوال کیا گیا تو محسن خان نے کہاکہ میں اسی طرح کے تحفظات ہونے کی وجہ سے 4سال تک پی سی بی سے دور رہا،البتہ اب چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے جسٹس قیوم رپورٹ کے بارے میں صورتحال واضح کردی۔

ان کے مطابق الزامات کے حوالے سے کوئی مصدقہ بات سامنے نہیں آئی، اب میرا ذہن بھی صاف ہوگیا، ہم ملک میں کرکٹ کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔

وسیم اکرم سے سوال کیا گیا کہ کیا اس دور میں آپ کیخلاف کوئی سیاسی چال تو نہیں چلی گئی۔ سابق پیسر نے کہا کہ اتنا عرصہ گزرگیا، کئی باتیں تو یاد بھی نہیں،وہ نہ صرف میرے بلکہ خاندان کے لیے بھی بُرا وقت تھا،پورا مہینہ عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے آج تک جو بھی کیا وہ ملک اور کرکٹ کی بہتری کے لیے تھا،اگر شکوک پر کان دھرے جاتے تو مجھے دنیا بھر میں کام کرنے کے مواقع نہ دیے جاتے، اب بھی 100فیصد صلاحیتوں کا استعمال کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں