15

پاکستان نے امارات سے بھی 6 ارب ڈالر کا اقتصادی پیکیج مانگ لیا

اسلام آباد: پاکستان نے سعودی طرز پر متحدہ عرب امارات سے بھی 6 بلین ڈالر کا اقتصادی پیکج مانگ لیا، جس پر دونوں ملکوں کے وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں ممکنہ معاہدے پرغور کیا گیا۔

دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر ہونیوالے مذاکرات میں شریک اہم ذرائع نے بتایا کہ اگر پاکستان، یو اے ای کے وفد سے کوئی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو وزیراعظم عمران خان چین کے دورے کے فوری بعد عرب امارات کے دورے پر روانہ ہو جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس میں جمعہ کے روز وزارتی سطح پر ہونیوالے مذاکرات میں اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ یواے ای وفدکی قیادت وزیر مملکت اورابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹرسلطان الجابرکر رہے تھے۔ وفد کومتحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان بھیجاگیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے 19 ستمبرکو ابوظہبی میں ملاقات ہوئی تھی اورانہوں نے اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

وزیراطلاعات ونشریات فواد چوہدری نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ یو اے ای بہت ہی گہرا دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مددکی، وفاقی وزیر نے یواے ای کی طرف سے ملنے والے کسی بھی متوقع اقتصادی پیکیج کی تفصیل بتانے سے گریزکرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان موثر اور نتیجہ خیزمذاکرات ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا دونوں ممالک نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے معاملے پر اتصالات کے ذمہ واجب الادا800 ملین ڈالرکی ادائیگی کا معاملہ بھی حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یواے ای کی طرف سے ملنے والی مالی امداد سعودی عرب طرز پر ہوگی، امارات 3 بلین ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس رکھے گا جبکہ 3بلین ڈالر کا تیل موخر ادائیگی پردیگا جبکہ پاکستان نے یواے ای سے5 بلین ڈالر کی مالی امداد اور 3 بلین ڈالرکا تیل موخر ادائیگی پر دینے درخواست کی ہے۔

بعد ازاں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان نے یو اے ای وفد سے تیل کی موخرادائیگیوں کے ضمن میں سعودی عرب سے ہونیوالے معاہدے کے تناظر میں بات کی۔ ان کاکہنا تھا کہ اماراتی وفد سے متعدد امکانات پر بات کی ہے جس سے پاکستان کو مالی امداد مل سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ پاکستان کو رواں مالی سال میں 18بلین ڈالر کا تیل درآمد کرنا پڑے گا جس کے باعث ادائیگیوں کے توازن میں 12ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔

پاکستان قبل ازیں سعودی عرب سے 6ارب ڈالر کا پیکیج کی یقین دہانی حاصل کر چکا ہے جبکہ بقیہ 6ارب ڈالرکا خسارہ پورا کرنے کے لیے چین اور یو اے ای کی امداد چاہتا ہے۔ امارت کی طرف سے ممکنہ پیکیج وصو ل کرنے کے بعد پاکستان آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران مزید بہتر پوزیشن میں آجائیگا۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ متحدہ عرب امارات پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے خواہاں ہیں، وہ پاکستان میں آئل ریفائنری لگانے پر بھی رضا مند ہوگیا ہے، یواے ای پاکستان کو مالی امداد پر بھی غورکریگا اورجدید ترین ایل این جی ٹرمینل لگائے گا، متحدہ عرب امارات کے وفد سے 50 لاکھ گھر منصوبے کیلئے سے تبادلہ خیال ہوا،گوادراورکراچی میں پانی کے مسائل کیلیے تعاون ، پاکستانیوں کیلیے ویزہ عمل میں آسانی پر بات چیت کی گئی ہے ان سے فوڈ پراسینگ انڈسٹری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے وزیر مملکت اورابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ ڈاکٹر سلطان الجبار وفد کی قیادت کر رہے تھے جبکہ دیگر ارکان میں مبادلہ پٹرولیم، اے ڈی آئی اے(سوورن ویلتھ فنڈ)، اتصالات، ڈی پی ورلڈ،دبئی انوسٹمنٹ اتھارٹی،عمارکمپنی، الزہرا ایگریکلچراورابوظہبی فنڈ برائے ترقی بڑی کمپنیوںکے سربراہان شامل تھے۔ وفد میں شامل سی ای او اتصالات عبدالرحیم النوریانی نے وزیرخزانہ عمر اسد سے بھی ملاقات کی، جس میں متعین مدت میں مسائل کوحل کرنے پربات کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں