32

حکومت متحدہ عرب امارات کی طرز پر ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لائے

کراچی: پاکستان میں جائیدادوں کے خریداروں کے تحفظ کیلیے دبئی کی طرز پر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے ریونیو کے حجم کو100 ارب روپے تک توسیع دینے کیلیے حکومت ڈی سی کی طرز پر ایف بی آر ویلیو کے نفاذ کو پاکستان کے 274 شہروں تک توسیع دے۔
وفاقی وزیر خزانہ کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ اسٹاک مارکیٹ کی طرح تبدیل کرنے کے بجائے حکومت متحدہ عرب امارات کی طرز پر ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لائے تاکہ سرمایہ کاروں اور خریداروں کے میں اضافہ ہو
پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسمنٹ فورم کے صدر شعبان الٰہی نے حکومت کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کا لین دین چند ہزار سے چند لاکھ روپے مالیت کی ہوتی ہے اور یہ لین دین چند دن میں مکمل ہوجاتا ہے جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں لین دین کا ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے، جائیداد کی قیمت کا تعین کسی انڈیکس کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس میں قیمت کے تعین کیلیے خریدار کی دلچسپیضروری ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں