35

پاکستانی ٹیم کی ون ڈے میں کارکردگی یکسر مختلف ہے

ٹی 20 کرکٹ میں لڑکھڑا کرسنبھلنے، کم ہدف کا دفاع کرنے اور بڑے ٹوٹل کا کامیاب تعاقب کرنے والے پاکستانی ٹیم کی پرانی بیماریاں ابوظبی میں پہلے ون ڈے میں لوٹ آئیں، ٹرینٹ بولٹ کی ہیٹ ٹرک ہی ٹاپ آرڈر کیلیے کافی ثابت ہوئی، فخرزمان، بابراعظم اور محمد حفیظ کی رخصتی کے بعد پہاڑ نظر آنے والے ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے سرفراز احمد اور عماد وسیم کی کوشش بھی کام نہ آئی۔
باولرزسپنر کا اعتماد بھی متزلزل ہوا لیکن پاکستان کے پاس شاداب خان اور عماد وسیم سمیت سلو بولرز کی کمی نہیں، شعیب ملک بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں، اصل مسئلہ ٹاپ آرڈر کے فلاپ ہونے کا ہے۔
امام الحق نےغیر ذمہ دارانہ اسٹروک کھیل کروکٹ گنوائی، فخرزمان آؤٹ آف فارم ہیں، سیریز میں اوپنرز کا اہم کردار ادا کرنا ضروری ہے۔بابر اعظم نے بھی غیر ذمہ دارانہ اسٹروک پر وکٹ گنوائی تھی۔
کپتان نے کہاکہ ایک وقت میں 230 رنز سے زیادہ بنتے نظر نہیں آ رہے تھے لیکن ہم وکٹیں نہیں لے سکے، سیریز میں واپسی اور ون ڈے فارمیٹ میں کارکردگی بہتر بنانے کیلیے ان غلطیوں پر قابو پانا ہوگا۔اور میچ میں اچھی کارکردگی بہت ضروری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں