17

تحریک لبیک کے رہنماؤں پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج، وزیر اطلاعات

اسلام آباد:پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھاکہ ریاست کے اندر تمام ادارے قانون کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں، کچھ شرپسند عناصر نے ہمارے اس نظام کو تہہ و بالا کرنیکی کوشش کی ہے، ہم نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کاآئینئ حق ہےجو احتجاج قانون کے دائرہ سے باہر ہو اس پر ریاست خاموش نہیں رہ سکتی، تحریک لبیک نے پاکستان کے آئین کو للکارا ہے، بغاوت کیس میں گرفتار لوگوں کو عمرقید کی سزا ہوگی، شہریوں کی جان و مال کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، تحریک لبیک کے رہنماؤں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ان کامزید کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں جانی اور مالی نقصان پہنچایا گیا.موٹر وے پہ گاڑیوں کو روکا گیا،ان کو آگ لگا دی گئی.
فواد چودھری نے کہا کہ خادم حسین رضوی جو کہ تحریک لبیک کےامیر ہیں ان کے خلاف بغاوت اور دہشتگردی کا مقدمہ تھانا سول لائن لاہور میں درج کیا گیا ہے، تحریک لبیک کے دوسرے اہم رہنما پیر افضل حسین قادری کو گجرات میں بغاوت اور دہشتگردی کے الزام میں چارج کردیا گیا ہے، عنایت الحق شاہ کے خلاف تھانہ روات راولپنڈی اور حافظ فاروق الحسن کیخلاف بھی بغاوت اور دہشتگردی کی ایف آئی آرز درج کرلی گئی ہیں۔اور جن لوگوں نے املاک کو نقصان پہنچایا ان کی مختلف تھانوں میں ایف آر درج کی جا رہی ہیں.
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں دنیا بھر کے علما نے کہا کہ جو تحریک لبیک نے کیا وہ عاشقان رسول ﷺ نہیں کرسکتے، تحریک لبیک کی سیاست انتہائی نامناسب تھی، دھرنے کے خلاف آپریشن میں ریاست کے تمام ادارے مشترکہ طور پر شریک تھے، اپوزیشن اور میڈیا ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے اوراختلافات کے باوجود سپورٹ کیا، پنجاب سے 2899، سندھ سے 139، اسلام آباد سے 126 لوگوں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں